ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹکا کی مخلوط حکومت کے متعلق بیان بازی نہ کرنے کانگریس اعلیٰ کمان نے سدرامیا کے منہ پر لگادیا تالا

کرناٹکا کی مخلوط حکومت کے متعلق بیان بازی نہ کرنے کانگریس اعلیٰ کمان نے سدرامیا کے منہ پر لگادیا تالا

Wed, 27 Jun 2018 22:10:36    S.O. News Service

بنگلورو۔27؍جون(ایس او نیوز) کانگریس ۔جنتادل (ایس) مخلوط حکومت کے متعلق سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس قائد سدرامیان کی جانب سے بیان بازیوں  پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس اعلیٰ کمان نے سدرامیان کے منہ پر تالا لگا دیا ہے اور اُنہیں سخت ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مخلوط حکومت کے متعلق کسی بھی قسم کی بیان بازی نہ کریں۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق اس بات کے اندیشے ظاہر کئے جارہے تھے کہ دھرمستھلا میں مقیم سدرامیا  کل بنگلور لوٹنے کے ساتھ ہی ریاست میں تیزی آنے کے اندیشے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ کانگریس اعلیٰ کمان کی طرف سے سدرامیا کو بیان بازی بند کرنے کی  تنبیہ کرنے کے بائوجود انہوں نے اپنی میٹنگوں کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔ البتہ اب سدرامیا کو اعلیٰ کمان کی جانب سے  سخت ہدایت دینے کے بعد   بجٹ اجلاس کی تیاریوں کو قطعیت دینے اور کسانوں کے قرضوں کی معافی پر سدرامیا نے کئی نیا بیان نہیں دیا ہے۔ لیکن خبریں مل رہی ہیں کہ  انہوں نے  اپنے حامیوں کے ساتھ میٹنگوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

خیال رہے کہ  وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور اور سینئر وزیر ڈی کے شیوکمار کی تائید سے بجٹ کی تیاریوں کی میٹنگوں کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے بجٹ اجلاس کی تیاریوں کو قطعیت دے دی ہے۔

خبر ملی ہے کہ سدرامیا کی طرف سے حکومت کے خلاف مبینہ سرگرمیوں کے بارے میں نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور اور دیگر لیڈران نے  سدرامیا مخالف لیڈروں کی طرف سے اعلیٰ کمان کو شکایت دی تھی جس  پر صدر کانگریس راہل گاندھی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے کرناٹک میں کانگریس امور کے انچارج کے سی وینو گوپال کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر کرناٹک کے حالات کو قابو میں کرنے کے لئے متعلقہ لیڈروں سے ملاقات کریں اوراس بات کو یقینی بنائیں کہ  مخلوط حکومت کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچنے پائے ۔

ریاست کی سیاسی سرگرمیوں کے متعلق وزیراعلیٰ کمار سوامی ، سابق وزیر اعظم دیوے گوڈا ، کانگریس قائدین پرمیشور ، ملیکارجن کھرگے اور ڈی کے شیوکمار کی طرف سے دی گئی اطلاعات پر اعلیٰ کمان نے سدرامیا کو وارننگ دی ہے کہ ریاستی حکومت کے تعلق سے وہ کوئی بیان بازی نہ کریں ، اور ساتھ ہی اپنے اقرباء کے ساتھ میٹنگو ں کا سلسلہ ختم کریں۔ حکومت کے متعلق سدرامیا کے بیانات کے بعد جنتادل (ایس) قیادت کی برہمی اور کل وزیراعلیٰ کما ر سوامی کی طرف سے اقتدار چھوڑنے پر آمادگی پر کانگریس قیادت نے سدرامیا کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور کہا ہے کہ ریاست میں کانگریس  اتحاد صرف فرقہ پرست بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے کیا ہے ایسے میں مخلوط حکومت کے گرنے کی وجہ کانگریس ہرگز بننا نہیں چاہتی۔ وزیر اعلیٰ کی طرف سے بجٹ کی پیش کش ، سرکاری افسروں کے تبادلوں وغیرہ پر سدرامیا اور ان کے حامیوں کے اعتراضات پر اعلیٰ کمان نے وینو گوپال کو ہدایت دی ہے کہ اس سلسلے میں وہ جنتادل (ایس) قیادت سے تبادلۂ خیال کریں اوراس بات کو یقینی بنائیں کہ حکومت کا کوئی بھی بڑا فیصلہ ریاستی سطح پر قائم رابطہ کمیٹی کی منظوری سے لیا جائے ۔ اس کے علاوہ جہاں تک حکومت کے روز مرہ امور کے فیصلے ہیں وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ اپنی سطح پر لیں ، اس کے لئے 30جون کو مخلوط حکومت کی رابطہ کمیٹی کی میٹنگ طلب کئے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

بتایاجاتاہے کہ مخلوط حکومت کو ابتدائی دنوں میں ہی پریشان کرنے سدرامیا کے رویہ پر متعدد کانگریس قائدوں نے سخت اعتراض کیا اور کہاکہ اس حکومت کے متعلق سدرامیا کے مبینہ ویڈیو کے سامنے آنے سے ان کی اصلیت ظاہر ہوگئی ہے۔ اسی لئے اعلیٰ کمان انہیں قابو میں رکھنے کے لئے فوری  قدم اٹھائے۔ انتخابات سے قبل سدرامیا نے دیوے گوڈا اور کمار سوامی پر جس طرح کے رکیک حملے کئے تھے ، سدرامیا اس سلسلے کو اب بھی جاری رکھنا چاہتے ہیں جو درست نہیں۔ اس دوران بعض کانگریس لیڈروں نے کہاہے کہ 30جون کو ہونے والی رابطہ کمیٹی میٹنگ کے بعد تمام حالات راہ راست پر آجائیں گے اور کمار سوامی کی قیادت والی حکومت بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا کام کرے گی۔


Share: